y
Click to install Urdu Font
MANUU LOGO
 
البیرونی مرکز برائے مطالعاتِ سماجی اخراج و شمولیتی پالیسی
پروفائل | تحقیقی پروگرام | کتب خانہ | تحقیقی پراجیکٹس | سمینارس/ ورکشاپس | ماہانہ لکچر سیریز | مشاورتی کمیٹی

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد میں البیرونی مرکز برائے مطالعاتِ سماجی اخراج و شمولیتی پالیسی(ACSSEIP) مئی 2007 میں قائم ہوا۔ سماج میں ذات/ نسل اور مذہب کی بنیاد پر ہونے والی اخراج اور شمولیت کا تصور وضع کرتے ہوئے ان کو صحیح تناظر میں پیش کرنا اور اس کے مسائل کا تعین کرنا اس مرکز کے بنیادی مقاصد میں شامل ہیں۔ سماجی اخراج اور امتیازی سلوک کے خاتمے اور ان طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنائی جانے والی پالیسیوں سے متعلق تجاویز پیش کرنے میں بھی مرکز اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دسویں منصوبے میں یو جی سی نے سماجی اخراجیت اور شمولیتی پالیسی کے مطالعہ کے لیے جن مراکز کے قیام کا فیصلہ کیا تھا یہ ان مراکز میں سے ایک ہے جس نے اپنی اہمیت تسلیم کروائی۔ تدریس، تحقیق اور سماجی طور پر پسماندہ طبقات میں کام کرنے والے معروف اداروں کے اشتراک سے میں عملی پروگراموں کا اہتمام اس مرکز کی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ سماجی تاریخ کے شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ذات ، نسل، مذہب اور جنس کی بنیاد پر سماجی اخراج متعینہ سماجی ڈھانچے کے اندر تناؤ، تشدد اور رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ یہ علیحدگی کی ایک شکل ہے جس میں کچھ سماجی جماعتوں کے وسائل تک رسائی مسدود کردی جاتی ہے۔ سماج میں ان کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے اور انہیں محروم رکھا جاتا ہے۔ ہندوستان میں درج فہرست ذوات درج فہرست قبائل اور مذہبی اقلیتیں باضابطہ طور پر جن تجربات سے گزرتی ہیں، وہ سماجی اخراج کی ایک مثال ہے۔ یہ موجودہ ناز صورت حال میں خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ اس سلسلے میں، اعلیٰ تعلیمی ادارے ہی اپنے مطالعہ، تفہیم اور استخراج سے متعلق معاملات پر ارتقائے پالیسی کے مظاہر سے بالاتر ہوکر سماجی اخراج کے مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔ اس طرح کے مراکز مختلف النوع افراد، جماعتوں اور اداروں کو ساتھ لاسکتے ہیں تاکہ سماجی اخراج کے اسباب و نتائج کو سمجھا جاسکے اور مستخرجہ فرقوں کو ملک کی جدید کاری اور ترقی کے عمل میں پوری طرح شریک کرنے کے لیے اقدامات تجویز کیا جاسکے۔
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اس مرکز کا مقصد سماجی طور پر مستخرجہ جماعتوں میں سے کچھ منتخب جماعتوں، خصوصی طور پر مسلم جماعتوں کے سماجی اخراج کی فطرت، وسعت اور شکلوں کا مطالعہ کرنا اور اس متعلق اصولی اور پالیسی وضع کرنے کے لیے تجاویز پیش کرنا ہے۔ مرکز کے کلیدی مقاصد میں امتیازی سلوک، ذات / نسل اور مذہب کی بنیاد پر اخراج و شمولیت کے سلسلے میں تصور وضع کرنا، اختباری سطح پر امتیاز کی سمجھ پیدا کرنا، ان جماعتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پالیسیاں وضع کرنا اور اخراج و امتیاز کے مسئلے کا خاتمہ کرنا شامل ہے۔ مرکز کے قابل توجہ شعبہ میں مذہبی اقلیتوں خصوصی طور پر مسلمان بطور سماجی مستخرجہ جماعت ، اردو بولنے والی آبادی کے اخراج اور دیگر مستخرجہ جماعتوں مثلاً دلتوں اور قبائلی فرقوں کے اخراج کا مطالعہ کرنا شامل ہے۔ سال 2014 میں مرکز کا نام دوبارہ رکھا گیا۔ یہ البیرونی (973-1043) کے نام پر رکھا گیاہے جو عہد وسطیٰ کا عظیم دانشور اور تاریخ داں تھا جس نے ہندوستانی سماجی نظام اور گوناگونیت پر جامع اور تفصیلی کام کیا ہے۔

اغراض: سماجی طور پر مستخرجہ جماعتوں کے سماجی اخراج کی فطرت، وسعت اور شکلوں کا مطالعہ کرنا، اصولی خاکہ وضع کرنا اور اس متعلق پالیسی سازی کے لیے تجاویز پیش کرنا۔

مقاصد::

  • امتیاز ی سلوک اور ذات/ نسل اور مذہب پر مبنی اخراج و شمولیت کے متعلق تصورات وضع کرنا۔
  • امتیاز اور اخراج کی فطرت اور حرکیات کی تفہیم پیدا کرنا۔
  • اختباری سطح پر امتیاز کی تفہیم پیدا کرنا۔
  • مستخرجہ جماعتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پالیسی سازی کرنا اور اخراج و امتیاز کے مسئلے کی بیخ کنی کرنا۔

شعبہ خصوصی توجہ:
مذہبی اقلیتوں خصوصی طور سے مسلمانوں اور دیگر مستخرجہ جماعتوں مثلاً دلتوں اور قبائلی فرقوں کا مطالعہ کرنا۔

اہم لنکس
وائس چانسلر کے قلم سے
اجلاس کی روداد
نو ٹس/ سرکیولرس
ملازمین لاگ آن کریں
گوشہ ملازمین
پراسپکٹس 2017-18
آرکائیوز
ٹنڈر
آر ٹی آئ
تعلیمی کیلنڈر
فہرست تعطیلات

ہوم  |  رابطہ  |  
©2012 مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد، تمام حقوق محفوظ
Blue ThemeRed ThemeGreen Theme